اتوار 8 فروری 2026 - 15:23
مذاکرات میں دشمن کی چالوں اور مکاریوں سے ہوشیار رہنا چاہیے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے شہید سعید سامانلو کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: دشمن اپنے دوسرے منصوبوں میں ناکامی کے بعد مذاکرات کی طرف آیا ہے لیکن مذاکرات کے دوران اس کی چالوں اور مکاریوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ ملک پر حملہ نہ کر سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہیدِ مدافعِ حرم سعید سامانلو کی یادگاری تقریب میں حجت الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے الٰہی نعمتوں کو ظاہر اور پوشیدہ میں تقسیم کرتے ہوئے کہا: ان نمایاں نعمتوں میں سے ایک جو خداوندِ متعال نے ہمیں عطا کی ہے، نظامِ اسلامی اور ولایت کی نعمت ہے۔ ہمارے شہداء نے اس الٰہی نعمت کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور ہم پر بھی لازم ہے کہ شہداء کی طرح پورے وجود کے ساتھ نظامِ الٰہی اور ولایت کا دفاع کریں۔

انہوں نے ملک کے حالیہ واقعات اور دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اگر ان واقعات کو دقت سے دیکھا جائے تو ان جرائم میں غیر ملکی ہاتھ خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کا کردار واضح طور پر نظر آتا ہے۔ خود انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے اندر پرتشدد کارروائیاں کرنے کے لیے افراد کو مسلح کیا۔ دشمن کی تمام تر کوشش اسی الٰہی نعمت یعنی نظامِ اسلامی اور ولایت کو ختم کرنے کے لیے ہے اور ہمیں چوکنا رہنا چاہیے تاکہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے انقلاب اسلامی کے خلاف دشمنی کو صرف موجودہ دور تک محدود قرار نہ دیتے ہوئے کہا: انقلاب کے آغاز سے اب تک دشمن مسلط کردہ جنگ، معاشی جنگ اور تہذیبی و ثقافتی شبہات کے ذریعہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا اور اب وہ ایک ترکیبی جنگ کی طرف آ چکا ہے۔

انہوں نے حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے دیکھا کہ کس طرح شرپسندی اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور دہشت گردوں نے مساجد، امام بارگاہوں، حرم امام زادگان اور قرآن پاک کو آگ لگائی۔ حالیہ واقعات میں دشمن نے اپنا باطن آشکار کر دیا اور کھل کر اعلان کر دیا کہ اسے ہمارے دین سے مسئلہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha